ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوٹ بندی کے بعد بجٹ سے بھی عوامی تو قعات پر پانی پھیر گیا؛ اقلیتوں کی فلاح کیلئے منصوبہ کا اعلان نہ کرنا بدبختانہ: ناصر حسین

نوٹ بندی کے بعد بجٹ سے بھی عوامی تو قعات پر پانی پھیر گیا؛ اقلیتوں کی فلاح کیلئے منصوبہ کا اعلان نہ کرنا بدبختانہ: ناصر حسین

Fri, 03 Feb 2017 00:00:58    S.O. News Service

بنگلورو۔2 فروری (ایس او نیوز) اے آئی سی سی ترجمان ڈاکٹر ناصر حسین نے آج الزام عائد کیا ہے کہ نوٹ بندی کے سبب پریشانیوں میں مبتلا عوام نے مودی حکومت سے جو توقعات رکھی تھیں، مرکزی بجٹ نے ان سب پر پانی پھیر دیا ہے، اور یہ ایک مایوس کن بجٹ ثابت ہوا ہے۔ کے پی سی سی دفتر میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس بجٹ میں اقلیتوں، کسانوں اور مزدور طبقات کے علاوہ غریب و متوسط طبقہ کیلئے کسی بھی طرح کی نئی اسکیم کااعلان نہیں ہوا ہے، اور نہ ہی نوٹ بندی کے بعد جمع کالا دطن کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح نوٹ بندی کے 50 دنوں بعد مودی کا قوم سے خطاب فلاپ شو ثابت ہوا تھا، اسی طرح مرکز کا بجٹ بھی فلاپ شو ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کے ذریعہ اعلانات ہوئے تھے کہ کالا دھن واپس لانے کے بعد غریبوں کے بینک کھاتوں میں رقم جمع کی جائیگی، مگر اب تک ایک روپیہ بھی جمع نہیں ہوا ہے۔ جبکہ توقع سے زیادہ پیسہ بینکوں میں ڈپازٹ ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خشک سالی اور نوٹ بندی کے سبب اگر کوئی طبقہ سب سے زیادہ پریشان ہے تو وہ کسان طبقہ ہے، ان کی راحت کیلئے کوئی اقدام نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایاکہ 130 کروڑ کی آبادی والے ملک میں تقریباً سو کروڑ لوگ بے گھر ہیں، مگر صرف ایک کروڑ مکانات کی تعمیر کا وعدہ ہوا ہے جو ناکافی ہے۔ نوٹ وبندی کے بعد کروڑ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، ایسے میں مزدور ہزار کروڑ روپوں کا معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر ناصر حسین نے بتایا کہ سابقہ یو پی اے حکومت کے دور میں جاری 24 عوام پرور اسکیموں کا بجٹ میں ذکر تک نہیں ہے۔ پانچ برسوں میں دس کروڑ افراد کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آنے والی بی جے پی حکومت کے دور میں پہلے سال 67 ہز ار، دوسرے سال 87 ہزار اور تیسرے سال 1.5 لاکھ افراد کو ہی روزگار فراہم ہوا ہے۔ انہوں نے ہیلتھ سنٹرس میں ویلنیس نئرو یوگا سنٹر کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے بتایا کہ جب معیاری طبی سہولیات ہی مناسب طریقہ سے فراہم نہیں ہورہی ہیں تو ویلنیس سنٹر قیام فضول ہے، مرکز اس کے ذریعہ صرف یوگا کو عام کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ٹریبونلوں کو بند کرنے کے فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس کیلئے حکومت کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے عدلیہ پر سے بوجھ کم کرے اور ججوں کے تقررات کو ترجیح دے۔ ٹیکس شرحوں پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ناصر حسین نے بتایا کہ اقلیتوں کے بجٹ میں معمولی 395 کروڑ روپوں کا اضافہ کیاگیا ہے، جب کہ اب حج امور کو بھی وزارت اقلیتی امور میں ضم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 سے اب تک اقلیتوں کے بجٹ میں صرف 600 کروڑ روپوں کا اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اقلیتی طلبہ کو تعلیمی وظائف فراہم کرنے والے مولانا آزاد فاؤنڈیشن میں آن لائن عرضیاں داخل کرنے کے باوجود کئی طلبہ کو وظائف نہیں مل پارہے ہیں، اس شکایت کو دور کیا جانا چاہئے اور سچر کمیٹی سفارشات کے مطابق ہر بینک میں اقلیتی سیل قائم کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے کسی نئی اسکیم کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق ڈجیٹل لین دین کو مقبول بنانے پر بھی بجٹ میں کوئی تھوس اقدامات نہیں ہوئے ہیں۔ اس موقع پر کے پی سی سی کارگزار صدر دنیش گنڈوراؤ بھی موجود تھے۔
 


Share: